9 ستمبر 2026 - 13:37
 بھارت میں مسجد کی مسماری پر سوال اٹھانا مہنگا پڑ گیا، یوپی پولیس نے صحافی ہُدا زری والا کو گرفتار کر لیا

بھارتی ریاست اتر پردیش پولیس نے 34 سالہ صحافی اور سماجی کارکن ہُدا زری والا کو سہارنپور میں ایک تقریباً 150 سال پرانی مسجد کی مسماری کے خلاف احتجاج اور وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کے بعد گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،بھارتی ریاست اتر پردیش پولیس نے 34 سالہ صحافی اور سماجی کارکن ہُدا زری والا کو سہارنپور میں ایک تقریباً 150 سال پرانی مسجد کی مسماری کے خلاف احتجاج اور وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کے بعد گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔

 رپورٹس کے مطابق ہُدا زری والا مسجد کی مسماری کے خلاف احتجاج کے لیے سہارنپور سرکٹ ہاؤس پہنچی تھیں۔ وہاں احاطے میں داخل ہونے کے معاملے پر ان کی پولیس اہلکاروں سے بحث ہوئی، جس کے بعد پولیس نے انہیں روک دیا۔

 بعد ازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں زری والا وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ضلعی انتظامیہ سے مسجد گرائے جانے کے بارے میں سوال کرتی دکھائی دیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مسجد کی مسماری کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم برادری اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائے گی۔

 7 ستمبر کو سہارنپور کے صدر بازار تھانے میں ہُدا زری والا کے خلاف ایک الگ ایف آئی آر درج کی گئی۔ مقدمہ ایڈووکیٹ دشینت سنگھ کی شکایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 299 کے تحت درج کیا گیا۔

 شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ زری والا نے ایک آئینی عہدہ رکھنے والی شخصیت کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز اور نامناسب گفتگو کی۔ شکایت کنندہ کے مطابق ان کے بیانات اشتعال انگیز تھے اور ان سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

 ہُدا زری والا کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں موجود تقریباً 150 سال پرانی مسجد کی مسماری پہلے ہی تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

 انتظامیہ نے مسجد کو غیر قانونی تعمیر قرار دیا تھا، جبکہ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ تاہم ضلعی عدالت نے اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد مسجد کو سخت پولیس سکیورٹی کے درمیان منہدم کر دیا گیا۔

 مسجد کی مسماری کے خلاف زری والا کی جانب سے کی جانے والی تنقید کے بعد ان کے خلاف BNS کی دفعہ 299 کے تحت کارروائی کی گئی۔ یہ دفعہ مذہبی جذبات کو جان بوجھ کر اور بدنیتی سے مجروح کرنے سے متعلق ہے۔

 صدر بازار تھانے کے ایک پولیس افسر نے زری والا کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کر رہی تھیں اور وہاں ہنگامہ پیدا کر رہی تھیں، جس کے باعث پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔

 پولیس افسر کے مطابق ان کے خلاف شکایت گرفتاری کے بعد موصول ہوئی اور الزامات کا جائزہ لینے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔

 پولیس کا مزید کہنا ہے کہ دفعہ 299 کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی ایک دفعہ بھی مقدمے میں شامل کی گئی ہے، تاہم افسر نے اس کی واضح وجہ نہیں بتائی۔ دستیاب ایف آئی آر کی ڈیجیٹل نقل میں البتہ آئی ٹی ایکٹ کی اس دفعہ کا ذکر موجود نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق اسے بعد میں ایف آئی آر میں شامل کیا جائے گا۔

 سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں ہُدا زری والا خود کو سابق بی بی سی صحافی بھی بتاتی ہیں، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

 زری والا حال ہی میں اس وقت بھی خبروں میں آئی تھیں جب انہوں نے مسلم خواتین صحافیوں کے ساتھ دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ بدسلوکی اور حملے کے معاملے پر پولیس اہلکاروں سے سوالات کیے تھے۔

 اب سہارنپور کی مسجد کی مسماری کے خلاف احتجاج اور وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کے بعد ان کی گرفتاری نے آزادیِ اظہار، مذہبی مقامات اور پولیس کارروائی سے متعلق ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha